مقبوضہ بیت المقدس،10مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مقبوضہ فلسطین بالخصوص القدس الشریف کی مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے بالخصوص اذان فجر کی اذان کے معاملے پر ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی سامنے آئی ہے۔اسرائیل کے ایک سینیر سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اس بیان پر تل ابیب پر سخت مایوسی پائی جا رہی ہے جس میں انہوں نے اسرائیل پر مسلمانوں سے امتیاز برتنے اور نسل پرستی کا مظاہرہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل یوول روٹیم نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے تل ابیب میں متعین ترک سفیر کمال اوکم سے رابطہ کر کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی طرف سے ان سے احتجاج کیا ہے۔
گذشتہ روز اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان ترک حکومت کے اس موقف پر شدید تنقید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات امریکا میں سیاہ فاموں اور جنوبی افریقا کے سابق دور سے مماثلت رکھتے ہیں۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان یمانویل نخشون نے ترکی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے ملک میں منظم انداز میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب ہوں انہیں ایک جمہوری اور انسانی حقوق کے پابند ملک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید نہیں کرنا چاہیے۔اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے اسپیکر یولی اڈلچائن نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ ’یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ایردوآن ہمارا حقیقی دْشمن تھا اور آج بھی ہے‘۔
ترک صدر ایردوآن نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ نماز فجر سمیت دیگر نمازوں کے لیے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کے قانون پر عمل درآمد رکوائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نمازوں کے لیے اذان پر پابندی مذہبی شعائر پر پابندی کے مترادف اور نسل پرستانہ اقدام ہے۔خیال رہے کہ اسرائیلی کنیسٹ نے فروری کو ایک مسودہ قانون زیربحث لانے کی اجازت دی تھی۔ اس قانون کے تحت اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کی سفارش کی گئی تھی۔ترک صدر ایردوآن نے استنبول میں ’القدس فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں سابق جنوبی افریقی نسل پرست نظام اور امریکا میں سیاہ فام نسل سے ہونے والی نسل پرستی کے مترادف ہے۔ترکی اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ برس جون میں چھ سال کے سفارتی تعطل کے بعد سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مئی 2010ء میں اس وقت سفارتی تعلقات ختم ہو گئے تھے جب اسرائیل نے غزہ کے علاقے کا محاصرہ توڑنے کے لیے آنے والے ترک بحری جہاز 'فریڈم فلوٹیلا' پر شب خون مار کر 10 ترک امدادی کارکن شہید کر دیے تھے۔